مخصوص بندوں کے قلوب میں مفید طریقے اِلقا فرماتے رہے ہیں،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہفتہ میں ایک یا دو دفعہ لوگ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوتے اور وہ ان کو احادیث سناتے، مسائل بتلاتے ، بخاری شریف میں ہے : عن أبي وائل قال : ’’ کان عبد اللّٰہ یُذکِّر الناس في کل خمیسٍ ‘‘ ۔ (صحیح بخاري :۱/۱۶)
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے قریب کھڑے ہوکر احادیث سنایا کرتے تھے۔ (مستدرک حاکم:۱/۱۹۰)
پھر ایک وقت آیا ، مشائخ نے تصوف اور توجہ باطن کے ذریعے ، علماء نے مدارس قائم کرکے، واعظین نے وعظ کہہ کر، تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیا، غرض یہ کہ امت فریضۂ تبلیغ سے کبھی غافل نہ ہوئی، اور اوپر ذکر کردہ طریقوں میں سے ہر طریقہ اُس زمانے کے اعتبار سے مؤثر رہا، آج کے دور میں تبلیغی جماعت کا طریقہ اصول کی پابندی کے ساتھ تبلیغِ دین میں نہایت مؤثر ومفید ہے۔
اب جس طرح مدارس، مکاتب، خانقاہوں کے قیام کو نیا طریقہ کہہ کر غلط نہیں کہا جاسکتا ، اسی طرح تبلیغ کے اس طریقے کو غلط نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ مسلمانوںکااپنے دین میں پختہ ہونا -اس سے بھی غیر مسلموں میںتبلیغ ہوتی ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ خود ہی اُس طرف مائل ہوں،رہی غیر مسلموں میں مستقلًا تبلیغ ، تواس سے انکار نہیں ،وہ بھی ہورہی ہے۔
۴- چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جماعت میں جو چلہ ہوتا ہے ، کیا دین میں اس کی کوئی اصل ہے؟