گھر کے افراد ، محلہ کے لوگ ، اور بستی کے باشندے دین سے دور ہوں اور آپ گاؤں گاؤں تبلیغ کرتے پھریں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ-اتنی بات تو حقیقت ہے ، اپنے گھر اور بستی کا حق مقد م ہے۔ {وأمر أہلک بالصلوۃ واصطبر علیہا} (آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجئے اور خود اس پر جمے رہیے)، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ گھر اور بستی والے جب تک پورے پابند نہ ہوجائیں دوسروں کوتبلیغ نہیں کی جاسکتی،مثلاً: کسی جگہ دینی مدرسہ ہے، جیسے آپ کا اپنا مدرسہ ’’ اشاعت العلوم ‘‘ یہاں اس کی پابندی نہیں کی گئی کہ ’’اکل کوا‘‘ کا ہر آدمی حافظِ قرآن،قاریٔ قرآن اور عالمِ دین بن جائے، تب ہی دوسری جگہ کے طالبِ علم کو داخلہ کی ترغیب دی جائے۔
اسی طرح نہ کسی بزرگ کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے گھر اور بستی کی اصلاحِ تام کے بغیر باہر کے آدمیوں کی بیعت نہ کی ہو،بلکہ اکثر یہی دیکھا جاتا ہے کہ گھر اور بستی والے فیض حاصل نہیں کرتے ، باہر والے کر لیتے ہیں۔
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف وغیرہ تشریف لے جانے سے پہلے کیا مکہ کے سب لوگوں کو مسلمان کر لیا تھا؟ نہیں! معلوم ہوا بات ایسی نہیں ہے جیسا کہ عام طور سے لوگ سمجھتے ہیں، تبلیغ کا مقصود محنت ومجاہدہ کرکے اپنے دین کو پختہ کرنا ہے، اور ہر آدمی صلابت فی الدین یعنی عقائد وتعمیلِ احکام میں پختگی کا مکلف وپابند ہے۔
۳- تیسرا عتراض یہ کیا جاتا ہے کہ موجودہ تبلیغ کا شرعی ثبوت کہاں ہے؟
جواباً عرض ہے کہ نفسِ تبلیغ کا حکم توکتاب وسنت سے ثابت ہے، اور ہر زمانے میں اس پر عمل بھی ہوتا رہا ہے، البتہ ہر زمانے کے حالات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اپنے