کام کی صحت پر پورا اطمینان ہو۔
۱- پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغ کا ثبوت کہاں ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغ کاثبوت ہے، ’’فیض الباری :۲/۲۵۵‘‘ پر ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی درخواست پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں، حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کے ساتھ کوفہ روانہ فرمایا، جو ڈیڑھ ہزار نفوس پر مشتمل تھی،اور یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ تھے۔
(مستفاد: ۱- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے کے اُمراء کوچاہیے کہ وہ مرکز کو عامۃ الناس کی دینی حالت اور ضرورت سے مطلع کریں، اور ضرورت کی بقدر جماعتوں کو بھیجنے کی درخواست کریں، اور مرکز میں موجود امیر المسلمین یا شوریٰ کو چاہیے کہ وہ علاقوں کے تقاضوں پر جماعتیں روانہ کرنے کی فکر کریں۔
مستفاد: ۲- اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مدارس کے طلبہ ، اسکول و کالجز کے اسٹوڈینس کی جماعتیں نکلنی چاہیے ، اور بہتر یہ ہے کہ ان کے امیر ان کے اساتذہ ہوں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ایک جماعت کو بصرہ، اور عبادہ بن صامت اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہما کی ایک جماعت کو ملکِ شام روانہ کیا، یہ جماعتیں مسلمانوں کے پاس گئیںاور ان میں تعلیم وتبلیغ کا کام کیا۔ (فتاویٰ محمودیہ:۵/۵۶)
۲- دوسرا اعتراض یہ کیاجاتا ہے کہ تبلیغ پہلے گھر میں ہونی چاہیے، پھر باہر، یعنی گھر کے ہر فرد میں سو فی صد دین آجائے ، اس کے بعد باہر تبلیغ کے لیے نکلنا چاہیے، نہ یہ کہ