بلّغت رسٰلَتَہ} ۔ (اے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم!- جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا آپ سب پہنچادیجئے، اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام نہیں پہنچایا۔)
تعلیم کے لیے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور تبلیغ کے لیے آپ خود تشریف لے گئے، تعلیم کے معنی ’’سیکھنے‘‘ کے ہیں، سیکھنے کے لیے معلِّم کے پاس آنا ہوتا ہے، اور تبلیغ کے معنی’’ پہنچانا‘‘ ، اس کے لیے مبلِّغ کو دوسروں کے پاس جانا بھی ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں یہ دونوں کام کیے ، اور اپنے بعد یہ دونوں کام امت کے سپرد فرمائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’ تَعلَّمُوا العِلمَ وعلِّمُوہ الناس ‘‘ ۔ ’’ تَعلَّمُوا الفَرائِضَ وعلِّمُوہَا الناسَ ‘‘ ۔ ’’ بَلِّغُوا عَنِّي ولَو آیۃ ‘‘ اور ’’ ألا فلیُبلِّغ الشاہد الغائب ‘‘ (جو شخص حاضر ہے ، جس نے براہِ راست مجھ سے دین سیکھا ہے وہ غائب تک پہنچادے)۔ چنانچہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین کے ہر ہر جز کی تبلیغ فرمائی ہے، اس لیے کہ دین کا ہر حکم امانت ہے، جس کا امت تک پہنچانا ضروری ہے۔
تبلیغ کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں دین سیکھنے اور اس پر عمل کا جذبہ پیدا ہوجائے ، تبلیغ سے ہرگز یہ تصور نہ کیا جائے کہ مسلمانوں کومسلمان نہیں سمجھا جارہا ہے، اوران کو کلمہ پڑھایا جارہا ہے۔
آج کل اس کام پر متعدد اعتراض کیے جاتے ہیں، اس لیے دل نے چاہا کہ آج کی اس مجلس میں انہی اعتراضات کے جوابات منقول ومعقول طریقہ پر دیئے جائیں، تاکہ یہ اعتراضات کام کرنے والے ساتھیوں میں تشویش پیدا نہ کریں، اور انہیں اپنے