کی جانے والی کمی جائز ہوگی ؟ یا اسے قرض پر فائدہ اُٹھانا سمجھا جائے گا؟
جواب:۳- زرِ ضمانت کی حیثیت رہن کی ہے، قرض وامانت کی نہیں، لہٰذا اس کی وجہ سے کرایہ میں کی جانے والی کمی جائز ہے، البتہ اس صورت میں مالک دکان یا مکان کو اس کے استعمال کی اجازت نہیںہوگی، خواہ کرایہ دار اس کی اجازت دے ، کیوں کہ رہن سے انتفاع کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ (۱۳)
رہی یہ بات کہ کرایہ دار اورمالک مکان ودکان دونوں کی ضرورتیں پھر کس طرح پوری ہوں گی؟ تو اس کی شکل یہ ہوسکتی ہے کہ زرِ ضمانت کے طور پر دی جانے والی رقم کو پیشگی کرایہ کے طور پر دے دیا جائے اور وہ اس سے اپنے کرایہ کی متعینہ رقم بتدریج منہاکرتا جائے ، اس طرح مالک مکان ودکان کوکاروبار کے لیے ایک بڑی رقم بنام پیشگی کرایہ حاصل ہوگی، اور کرایہ دار کی دکان یا مکان کی ضرورت بھی پوری ہوگی(۱۴)،اور کرایہ کی پیشگی رقم وصول ہونے کی وجہ سے مکان یا دکان کے مروجہ کرایہ میں کمی کرنا شرعاً جائز بھی ہے۔(۱۵)
..............................
والحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وصورتہ : أن یقول البائع للمشتري بعت منک ہذا العین بدین لک عليّ علی أني متی قضیت الدین فہو لي أو یقول البائع بعتک ہذا بکذا علی أني متی دفعت لک الثمن تدفع العین إلي ۔ (۶/۱۱ ، کتاب البیع ، باب خیارالشرط ، تبیین الحقائق : ۶/۲۳۷ ، کتاب الإکراہ ، رد المحتار : ۷/۵۴۵ ، مطلب في بیع الوفاء)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : والقول السادس في بیع الوفاء : إنہ صحیح لحاجۃ=