داری وغیرہ) حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟
[د]: خریدار اس کو بیچنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟ اور بیچے تو کس حد تک قیمت لے سکتا ہے؟
جواب:۲- اگر اس کو رہن قرار دیں تو…،
[الف]: جب تک بیچنے والا اس کو واپس نہ لے اس وقت تک خریدار کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز وحرام ہوگا۔ (۹)
[ب]: اگر خریدار اس طریقہ پر خریدے کہ مکان یا زمین کاکرایہ اداکرے، لیکن وہ اس کے مروجہ کرایہ سے بہت ہی کم ہو، تو (رہن قرار دیئے جانے کی صورت میں) یہ عقد اجارہ شرعاً درست نہیں ، کیوں کہ شی ٔ واحد میں عقدرہن واجارہ دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ (۱۰)
[ج]: اس عرصہ میں خریدار اس شی ٔ سے کسی طرح کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔(۱۱)
[د]: خریدار جب اس کا مالک نہیں تو بیچنے کا حق اُسے کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ (۱۲)
سوال:۳- آج کل بڑے شہروں میں کثیر رقمِ ضمانت اور اسی نسبت سے کم کرایہ پر معاملہ طے کیا جاتا ہے، مثلاً: ایک دکان یا مکان پر دس لاکھ روپئے رقم ضمانت حاصل کی جاتی ہے، تو اس کا مروجہ کرایہ دس ہزار روپئے ماہانہ ہونا چاہیے، لیکن مالک پانچ سو یا ایک ہزار روپئے کرایہ لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے، کیوں کہ اسے کاروبار یا کسی ضرورت کے لیے زرِ ضمانت کے نام پر بڑی رقم حاصل ہوجاتی ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ زرِ ضمانت کی حیثیت قرض کی ہوگی؟ یا امانت ورہن کی؟ اور اس کی وجہ سے کرایہ میں