وغیرہ میں سے کسی کا بھی اختیار نہیں، اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ مشتری کو فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے یانہیں؟ لہٰذا جن حضرات نے اِسے عقد رہن قرار دیا ہے(۴) ان کے نزدیک تو مشتری کا فائدہ اٹھانا بھی ناجائز ہے(۵)، اورجن حضرات نے اسے عقد بیع قرار دیا ہے ان کے نزدیک مشتری کا انتفاع جائز ہے، لیکن آگے کسی اور کو بیچنا یا وقف وغیرہ کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔(۶)
(فتاویٰ عثمانی :۳/۱۰۸، کتاب البیوع، فصل فی أنواع البیوع المختلفۃ، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)
[ب]: مالک اول کو بیچنے میں سابق ادا کردہ قیمت ہی لازم ہوگی، اس سے زائد کا مطالبہ درست نہیں ہوگا۔
[ج]: خریدار جب تک اس کو اپنے پاس رکھے اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔
[د]: خریدار اگر کسی دوسرے سے بیچ دے تو یہ بیع صحیح نہ ہوگی، اور اگر مزید قیمت لے تو یہ سود ہوگا(۷)، آگے کسی اور کو بیچنا یا وقف وغیرہ کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ (۸)
سوال:۲- اگر اس کو رہن قرار دیا جائے، تو؛
[الف]: جب تک بیچنے والا اس کو واپس نہ لے، اس وقت تک خریدار کے لیے اس سے فائدہ اُٹھانے کی کیا حیثیت ہوگی؟
[ب]: اگر خریدار اس طریقے پر خریدے کہ مکان یا زمین کا کرایہ اداکرے، لیکن وہ اس کے مروجہ کرایہ سے بہت ہی کم ہو، تو کیا یہ صورت جائز ہوگی؟
[ج]: اس عرصے میں خریدار اس شئے سے کسی طرح کا فائدہ (کاشت کا یا اجارہ