نہیں ہے۔جیسا کہ بیع بالوفاء کے متعلق شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ ورعاہ رقمطراز ہیں:
’’ اس کے بارے میں اصل مذہب یہ ہے کہ یہ فاسد ہے، اکثر فقہاء کرام اس عقد(مسئلے) میں رہن کا حکم جاری کرتے ہیں اور بیع کو فاسد قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض فقہاء کے نزدیک یہ بیع صحیح ہے، اور مشتری کو بھی اس سے نفع اٹھانا جائز ہے، لیکن یہ حق حاصل نہیں کہ آگے کسی اور کو بیچ دے، اور رد المحتار میںاس کے متعلق کئی اقوال نقل کیے ہیں، لیکن جو قول جامع ہے اس کو بایں طور ذکر کرتے ہیں: ’’ قولہ : (وقیل بیع یفید الانتفاع بہ) ہذا محتمل لأحد القولین : الأول : أنہ بیع صحیح مفید لبعض أحکامہ من حل الانتفاع بہ إلا أنہ لا یملک بیعہ ۔ قال الزیلعي في الإکراہ : وعلیہ الفتوی ۔ الثاني : القول الجامع لبعض المحققین أنہ فاسد في حق بعض الأحکام حتی ملک کل منہما الفسخ - صحیح في حق بعض الأحکام کحل الإنزال ومنافع البیع - ورہن في حق البعض حتی لم یملک المشتري بیعہ من آخر ولا رہنہ ، وسقط الدَّین بہلاکہ فہو مرکب من العقود الثلاثۃ کالزرافۃ فیہا صفۃ البعیر والبقر والنمر جوّز لحاجۃ الناس إلیہ بشرط سلامۃ البدلین لصاحبہا ۔ قال في البحر : وینبغي أن لا یعدل في الإفتاء عن القول الجامع ۔ وفي النہر : والعمل في دیارنا علی ما رجحہ الزیلعي ‘‘ ۔ (شامي :۴/۳۴۲ ، باب الصرف ، ۵/۲۷۶ ، ط : سعید ، البحر :۶/۸ ، تبیین :۵/۱۸۳) [الفتاوی ا لہندیۃ : ۳/۲۰۸-۲۰۹ ، ط : دار الفکر ، شامي :۴/۲۴۶- ۲۴۷ ، ط : احیاء التراث و بولاق ، الموسوعۃ الفقہیۃ :۹/۲۶۱ ، بیع الوفاء ، درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام : ۱/۱۱۱ ، المادۃ : ۱۱۸ ، البیوع])
اس ساری بحث سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ بیع وفا میں مشتری کو بیع - رہن- وقف