[د]: خریدار اگر کسی دوسرے سے بیچ دے، تو اس بیع کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر مزید قیمت لے، تو اس کی کیا حیثیت ہوگی؟
جواب:۱- یہ معاملہ جو بیع کے عنوان سے خاص قید وبند کے ساتھ ہوتا ہے، شرعاً منعقد اور درست ہے، اور ایسی بیع کے حکم میں ہے، جو اپنے بعضے احکام میں مفید اور بعض میں غیر مفید ہے، نیز اس بیع میں جو خاص قید وبند لگائی جاتی ہے گرچہ وہ قواعدِ شرعیہ کے مخالف ہے ، مگر تعارف وتعاملِ ناس کی وجہ سے یہاں قواعد شرعیہ متروک ہوں گے۔ ویسے تواس کے جواز وعدمِ جواز میں شدید اختلاف رہا، امام ظہیر الدین اور صدرالشہید رحمہما اللہ وغیرہ اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں ، امام ابوشجاع ، امام علی، امام ابن نجیم، امام بیہقی ،علامہ سغدی، قاضی حسن ماتریدی اور امام مرغینانی رحمہم اللہ وغیرہ اس کوحاجتِ ناس کے پیش نظراستحساناً ، اور عرفِ عام حادث کا قضیہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں۔(۱)
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اصولاً عدمِ جواز کو ثابت کیا ہے، اور بوقتِ ضرورت جواز پر عمل کی اجازت دی ہے(۲) ، اور محدثِ سہارنپوری علا مہ خلیل احمد رحمہ اللہ نے جائز قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ: دستاویز لکھتے وقت بیع کو مطلق عن الشرط رکھا جائے، اور بیع مع الشرط کی قید نہ لگائی جائے،تاکہ فقہائے متأخرین کے دونوں فریق کے قول پر عمل ثابت ہوجائے۔(۳) (محقق ومدلل جدید مسائل:۱/۲۹۹-۳۰۰)
[الف]: بیع وفا ء کی صورت میں یہ شرط کہ بعد میں کسی دوسرے سے نہ بیچا جائے فروخت کنندہ ہی سے بیچا جائے، یہ شرط، شرطِ لازم ہے، اور کسی دوسرے کو بیچنا جائز