ِ سلم کی اجازت دی ہے، اور فقہاء نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ ادھار اور نقد قیمت میں تفاوت جائز ہے(۱)، یہ الگ بات ہے کہ نقد وادھار کی قیمت میں تفاوت خلافِ مروّت ہے۔(۲)
(۲) مستقرض جس نے مقرض سے ادھار شی ٔ خریدی، اس کا اس شی ٔ کو کسی اور کے ہاتھ قیمتِ خرید سے کم پر نقد قیمت میں بیچنا یہ امر بھی جائز ہے، کیوں کہ جب مشتری کو مبیع پر ملکیت حاصل ہوگئی ، تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی ملک کم قیمت میں فروخت کرے یا زیادہ میں،کیوں کہ یہ اختیار ملک کی مقتضیات میں سے ہے، کہ ہر مالک اپنی ملک میں تصرف کا جس طرح چاہے مختار ومجاز ہے۔(۳)
(ب): دوسری صورت یہ ہے کہ طالبِ قرض جس شخص یا ادارے سے زائد قیمت پرادھار یا قسط وار چیز خریدتاہے ، اسی شخص یا اسی ادراے کو، یا ان دونوں سے منسلک کسی فرد یا ادارے کو، وہ چیز کم قیمتِ خرید پرنقد بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، اس صورت میں ربا یعنی سود کا شبہ ہونے کی وجہ سے بیع میں کراہت پیدا ہوگی، مگر اس صورت کو بھی ضرورتاً بلا کراہت درست قرار دینا چاہیے، کیوں کہ آج کے زمانے میں قرضِ حسنہ ملنا بہت مشکل امر ہے، اور جس کو مال کی ضرورت ہوتی ہے وہ پریشان ہوجاتا ہے، اسے قرضِ حسنہ دینے والا کوئی شخص نہیں ملتا، جس کی وجہ سے وہ سودی قرض لیتا ہے، اوربسا اوقات بیعِ تورّق کی صورت(جو آج کل مروّج ہے)کو اختیار کرتاہے، اس لیے ضرورتاً اس کی اجازت ہونی چاہیے، کیوں کہ بیعِ وفاء کی صورت بھی اس سے ملتی جلتی ہے، مگر متاخرین نے ضرورتاً اس کی اجازت دی ہے۔(۴)
(تورُّق اور اسلامی بینکوں کا مروجہ طریقۂ کار: ص/۴۰۰ - ۴۰۲،ط: ایفا)