خلوت اور تنہائی کا موقعہ بھی آسکتا ہے، بعض مرتبہ ان کے ساتھ بے تکلُّفانہ بات چیت اور آمدو رفت وغیرہ بھی ہوگی، یہ سب نواہیٔ شرع کا ارتکاب ہے۔(۹)
سوال:۴- خواتین کے لیے کسبِ معاش کی کوئی صورت اختیار کرنے میں کیا اس وقت بھی، جب کہ وہ اندرونِ خانہ ہی اپنی معاشرتی سرگرمیوں کو محدود رکھیں، اپنے ولی یا شوہر سے اجازت لینا ضروری ہوگا؟
جواب:۴- اگر عورت اندرونِ خانہ ہی اپنی معاشی سرگرمیوں کو محدود رکھے، تو اس صورت میں بھی اسے اپنے ولی یاشوہر کی اجازت درکار ہوگی، اور ولی اور شوہر کو چاہیے کہ وہ اسے معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے،جن سے کوئی دینی ضرر یا اپنے حق میں کوئی نقصان لازم نہ آتا ہو (۱۰)، خصوصاً جب کہ مرد گھر پر نہ ہو، کیوںکہ بے کاری، وساوسِ نفس وشیطان کی طرف مؤدِّی ہے ، اور اَجانب وجیران کے ساتھ لایعنی کاموں میں اشتِغال کا باعث ہے۔(۱۱)
سوال:۵- اگر عورت کو کسبِ معاش کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑے، تو کیا اس کے لیے ولی یا شوہر کی اجازت ضروری ہوگی؟ گھر سے نکلنا مسافتِ سفر یا اس سے زیادہ کے لیے ہو، یا اس سے کم کے لیے، دن کے وقت ہو، یا رات کے وقت، ولی اس خاتون کی کفالت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، ان صورتوں میں حکمِ شرعی کے اعتبار سے کچھ فرق بھی ہوگا؟
جواب:۵- اگر عورت واقعۃً ایسے حالات سے دوچار ہو، جن میں کسبِ معاش کے لیے گھر سے باہر نکلنا ہی پڑے ، تو اس صورت میں اس کے لیے ولی یا شوہر کی اجازت ضروری ہوگی۔(۱۲)