فرضِ عین ہے، اور نہ ولد پر اس کی تحصیل فرض اور امرِ مستحسن ہے،کیوںکہ دستورِ خداوندی ہے : {لا یکلف اللّٰہ نفسًا إلا وسعہا}۔-’’ اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا مگر اس کی بساط کے مطابق۔‘‘ (سورۂ آل عمران :۲۸۶)
اس کی تفسیر میں صاحبِ’’ روح المعانی‘‘ علامہ ابو الفضل شہاب الدین رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں : ’’ أي سنتہ تعالی لا یکلف نفسًا من النفوس إلا ما تطیق ‘‘ -یعنی یہ سنتِ خداوندی ہے کہ وہ انسانوں میں سے کسی صاحب ِ نفس کو اس کی بساط کے مطابق ہی ذمہ داری سونپتاہے۔ (۳/۱۱۲)
سوال:۵- اگر طالبِ علم یا والد صاحب استطاعت ہوں، اس کے باوجود وہ فی الحال تعلیم میں اپنا پیسہ نہ لگانا چاہیں، تو کیا ان کے لیے اس قرض اسکیم سے فائدہ اُٹھانا جائز ہوگا؟
جواب:۵- ہر گز جائز نہیں ۔ (بحوالہ سابق)
(تعلیم کے لیے قرض کا حصول اسلامی نقطۂ نظر:ص/۱۶۹- ۱۷۳، ط: ایفا)
..............................
والحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في القرآن الکریم : {وقل رَّبِّ زدني علمًا} ۔ (سورۃ طٰہ:۱۱۴)
ما في ’’ فتح الباري لإبن حجر العسقلاني ‘‘ : والمراد بالعلم العلم الشرعي الذي یفید معرفۃ ما یجب علی المکلف من أمر دینہ في عباداتہ ومعاملاتہ ، والعلم باللّٰہ وصفاتہ ، وما یجب لہ من القیام بأمرہ ۔ (۱/۱۸۷، باب فضل العلم)
(۲) ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن زید بن ثابت قال : أمرني رسول اللّٰہ ﷺ أن أتعلّم لہ کلمات من یہود ، قال : ’’ إني واللّٰہ ما آمن یہود علی کتابي‘‘ ۔ قال : فما مرّ بي نصف شہر حتی تعلّمتہ لہ ، قال : فلما تعلّمتہ کان إذا کتب إلی یہود کتبت إلیہم وإذا کتبوا إلیہ قرأت لہ کتابہم ۔ قال أبو عیسی: ہذا حدیث حسن صحیح ۔ وفي روایۃ : قال : أمرني رسول اللّٰہ ﷺ أن أتعلّم السریانیۃ۔=