جواب:۳- اگرکوئی شخص اعلیٰ تعلیم کے کسی شعبے میں داخلہ کا اہل ہو،اور وہ بیرونِ ملک جاکر تعلیم حاصل کرنا چاہے، لیکن اس کے معاشی حالات اس کے لیے سازگار نہیں ہیں، اور وہ کم شرح سود والے قرض سے فائدہ اٹھاناچاہے، تو اسے بھی اس کی اجازت نہیںہے،اس لیے کہ جدیدتعلیم کی تحصیل فرضِ کفائی ہے(۱۰)، اور سود کے لین دین سے بچنا فرضِ عین ہے۔اور فرضِ عین کو چھوڑ کر فرضِ کفائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی،کیوں کہ شریعتِ اسلامیہ نے مامورات سے زیادہ منہیات کی جانب اعتنا کیا ہے(۱۱)،وہ اس طر کہ امر بالشیٔ میں،امر حسبِ استطاعت بجالانے کا حکم ہے،اور نہی میں بچنا ہی بچناہے۔(۱۲)
سوال:۴- اگر خود طالبِ علم کی معاشی حالت اس کی متحمل نہیں ہے، لیکن اس کے والد اس کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو کیا والد کے صاحبِ استطاعت ہونے کی وجہ سے اسے صاحبِ استطاعت سمجھا جائے گا؟ یا قرض کے جائز ہونے اور نہ ہونے کا تعلق طالبِ علم کے اپنے حالات سے ہوگا؟
جواب:۴- اگر خود طالبِ علم کی معاشی حالت اعلیٰ تعلیم کی متحمل نہیں، لیکن اس کے والد کی معاشی حالت اس کی متحمل ہے، تو والداپنے ولد کے لیے اعلیٰ تعلیم کا نظم کرے، یہ والد کی طرف سے ولدکے لیے بہترین تحفہ ،اور اسلام اور مسلمانوںکی عمدہ خدمت ہوگی، والد کے صاحبِ استطاعت ہونے اور نہ ہونے سے سودی قرض لینے کے عدمِ جواز کے حکم پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ،کیوں کہ ولد کے عدمِ استطاعت اور والد کے صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں، نہ والدپر اپنے ولد کو یہ اعلیٰ تعلیم دینا