باطل فہو فاسد وباطل ‘‘ ۔ (موسوعۃ القواعد الفقہیۃ:۹/۴۳۹)
نکاح کے ذریعے انسان اولاد حاصل کرتا ہے ، جب وہ ان کی تعلیم وتربیت کو بہتر طریقے سے انجام دیتا ہے، تویہی اولاد اس کے لیے دنیوی زندگی میں آنکھوںکی ٹھنڈک، اور اس کے مرنے کے بعدذکرِ حسن ہوا کرتی ہے ، اولاد لطفِ روحانی (Soul enjoyment) اور رونقِ زندگانی(Gaity of life) ہے ،اللہ تعالیٰ اپنی کتابِ عزیز میں ارشاد فرماتے ہیں:{المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا والٰبقیٰت الصّٰلحٰت خیر عند ربک ثواباً وخیرٌ أملا}۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی ایک رونق ہیں ، اور باقی رہ جانے والے اعمالِ صالحہ آپ کے پروردگار کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ہے ، اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ۔ (سورۃ الکہف:۴۶)
انسان کی آنکھ بند ہونے کے بعد یہی اولاد اس کی نام لیوا ہوتی ہے ، اور اس کے لیے دعائے خیر کرتی ہے ، جیسا کہ آپ ا نے ارشاد فرمایا:’’جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ، مگر تین چیزوں سے اس کو برابر فائدہ پہنچتا رہتا ہے ‘‘،آپ ا نے ان میں ایک نیک اولاد کوبھی ذکر فرمایا۔عن أبي ہریرۃ أن رسول اللّٰہ ﷺ قال : ’’ إذا مات الإنسان انقطع عملہ إلا من ثلاثۃ أشیاء ؛ من صدقۃ جاریۃ ، أو علم ینتفع بہ ، أو ولد صالح یدعو لہ ‘‘ ۔
(سنن أبي داود :۲/۳۹۸ ، صحیح مسلم :۲/۴۱ ، کتاب الوصیۃ)
نکاح مر د وعورت دونوں میں ملاپ کا بہترین ذریعہ ہے ، اوریہی ملاپ عورت میں پائی جانے والی کمی کو پورا کرنے کا سبب بنتا ہے، کیوں کہ ہر کوئی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عورت پیدائشی طور پر کمزور ہے ، مرد جن اعمالِ شاقہ(Difficult workes) کا متحمل ہے عورت اس کا تحمل نہیں کرسکتی ،عورت کو مرد کی ضرورت ہے ،