فقہ کا قاعدہ بھی ہے کہ’’ نفعِ عام کی خاطر ضررِ خاص کو برداشت کیا جاتا ہے‘‘ ’’ یتحمل الضرر الخاص لدفع ضرر عام ‘‘ ۔ ( درر الحکام :۱/۴۰ ، المادۃ :۲۶)
(۴)آج کل طلبہ میں تعلیمی رجحان کے کم ہونے کی جہاں بہت ساری وجوہات ہیں، انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اساتذہ کی پیشِ نظر طلبہ کا نفعِ عام نہ رہا، بلکہ اپنا نفع ہر وقت مقدم رہتا ہے، جس کا ہم اور آپ کھلی آنکھوں مشاہدہ کررہے ہیں ، مثلاً: تعلیمی اوقات میں اگر استاذ کو اپنا کوئی ذاتی کام پیش آجائے، تو وہ طلبہ کے نفعِ عام کی خاطر اس کام کو مؤخر یا ملتوی نہیں کرتا، بلکہ تعلیمی حرج کو برداشت کرکے اپنے ذاتی کام کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح تعلیمی اوقات میں عین دورانِ درس کسی کے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، تووہ سلسلۂ درس کوموقوف کرکے ، کال ریسیو کرتا ہے، اور نہ صرف یہ کہ ضروری بات پر اکتفا کیا جاتا ہے ، بلکہ لایعنی باتوں اور ہنسی مذاق میںطلبہ کا قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ اسی طرح معمولی معمولی کاموں کے لیے اسکولوں اور کالجوں سے چھٹیاں لی جاتی ہیں، جب کہ اس میں بھی زیرِ تعلیم طلبہ کا بڑا حرج ونقصان ہوتا ہے۔
یہ تمام باتیں ایسی ہیںجن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خود ہم اساتذہ کے نزدیک ہمارے اس پیشہ کی اہمیت وعظمت باقی نہ رہی ، اور نہ یہ خیال کبھی وہم وگما ن میں بھی آتا ہے کہ ہم قوم کے معمار ہیں، جب کہ’’ ماضی میں ایک استاذ اور ٹیچر اپنے آپ کو قوم کا معمار خیال کیا کرتا تھا، اور اس کا عمل بھی اپنے اس خیال کے عین مطابق ہوا کرتا تھا، آج نہ تو یہ خیال رہا اور نہ ہی عمل، اور اگر معدودے افراد میں یہ خیال ہو بھی، تو وہ خیال؛ محض ایک خیا ل ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے عمل وکردار کی جو پختگی درکار ہے وہ موجودنہیں۔‘‘