اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں تین آدمیوں کی طرف سے خود مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر دھوکہ دیا ، دوسرا وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچا اور اس کی قیمت کھالی ، تیسرا وہ شخص جس نے مزدور سے محنت تو پوری لی مگر اس کی مزدوری نہ دی۔‘‘ (صحیح بخاري :۱/۳۰۲ ، باب إثم من منع الأجیر ، سنن ابن ماجہ :ص/۱۷۶، الرہون ، باب أجر الأجراء)
عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ أعطوا الأجیر الأجر قبل أن یجف عرقہ ‘‘ ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :۲/۱۷۶)
۳؍ مال گردش میں رہے، اس لیے تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔عن أبي سعید قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشہداء ‘‘ ۔ رواہ الترمذي والدارمي والدار قطني ۔ (مشکوۃ المصابیح :ص/۲۴۳ ، کتاب البیوع ، باب المساہلۃ في المعاملۃ ، جامع الترمذي :۲/۲۵۸، کتاب البیوع ، باب ما جاء في التجار وتسمیۃ النبي ﷺ إیاہم)
عن معاذ بن جبل قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ إن أطیب الکسب کسب التجار الذین إذا حدثوا لم یکذبوا ، وإذا اؤتمنوا لم یخونوا ، وإذا وعدوا لم یخلفوا ، وإذا اشتروا لم یذموا ، وإذا باعوا لم یطروا ، وإذا کان علیہم لم یمطلوا ، وإذا کان لہم لم یفسروا ‘‘ ۔
(الآداب للبیہقي :ص/۳۰۴ ، رقم :۱۰۰۱، باب ما یکرہ من التجارۃ)
۴؍ سود کو حرام قرارد یتا ہے ، کہ اس سے شفقت وہمدردی کے جذبات ختم ہوتے