جاتے ہیں، وہ عام طور پر فرضی ہوتے ہیں، البتہ سامعین کو اس سے دھوکہ نہیں ہوتا، اور وہ بھی اس کی حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا بہتر کاموں کی ترغیب اور معاشرے کے مفاسد پر تنقید کے لیے ڈرامے اسٹیج کیے جاسکتے ہیں؟
جواب:۶- آج کل دینی مدارس اور اصلاحی پروگراموں میں جو مکالمات اور ڈرامے منعقد کیے جاتے ہیں، ان میں معاشرے کے مفاسد پر تنقید اور خرابیوں پر مطلع کرکے ، ان کے اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے، شرعاً اس طرح کے مکالمات اور ڈرامے جائز اور درست ہونا چاہیے، بشرطیکہ اس میں ضروریاتِ دین وعقائد پر زد نہ پڑتی ہو، اور محرماتِ شرعیہ میں سے کسی محرم کا ارتکاب نہ ہوتا ہو، مثلاً: تالیاں پیٹنا ، سیٹیاں بجانا(۳۷)،اور کسی کی تحقیر وتذلیل کرنا وغیرہ۔(۳۸)
(تفریح وسیاحت؛ اس کے جائز وسائل وشرعی ضوابط:ص/ ۳۰۶- ۳۲۳، ط: ایفا)
..............................
والحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ شمائل الترمذي ‘‘ : عن الحسن قال : أتت عجوز النبي ﷺ فقالت : یا رسول اللّٰہ ! أدع اللّٰہ أن یدخلني الجنۃ ، فقال : یا أم فلان ! ’’ إن الجنۃ لا تدخلہا وہي عجوز، إن اللّٰہ تعالی یقول : {إنا أنشأنٰہنّ إنشآء ، فجلعنٰہنّ أبکارًا} ‘‘ ۔ (ص/۱۶، باب ما جاء في صفۃ مزاح رسول اللّٰہ ﷺ ، قضایا اللہو والترفیۃ لمادون رشید:ص/۱۹۴، ۱۹۵، فصل في الملاہي النفسیۃ)
(۲) (کتاب المراح في المزاح :ص/۱۳، قضایا اللہو والترفیۃ :ص/۱۹۵، فصل في الملاہي النفسیۃ)
(۳) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أنس قال : ۔۔۔۔۔ وکان لي أخ یقال لہ أبو عمیر ۔۔۔۔۔۔ وکان إذا جاء قال : ’’ یا أبا عمیر ! ما فعل النغیر ؟ ‘‘ الخ ۔ (ص/۱۱۰۹، رقم :۶۲۰۳، کتاب الأدب ، باب الکنیۃ للصبي قبل أن یولد للرجل ، ط : دار احیاء التراث العربي بیروت ، سنن الترمذي :۲/۱۹، أبواب البر والصلۃ ، باب ما جاء في المزاح ، ط : مکتبہ بلال دیوبند ، قضایا اللہو والترفیۃ : ص/۱۹۷)
(۴) (ذکرہ أبو البرکات في ’’ المراح في المزاح ‘‘ :ص/۳۱ ، قضایا اللہو والترفیۃ : ص/۱۹۳، فصل في الملاہي النفسیۃ)=