احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۷ عورت کی آواز کا پردہ عورت کی آواز (کے عورت ہونے) میں اختلاف ہے مگر صحیح یہ ہے کہ وہ عورت نہیں ۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۷ج۴) لیکن عوارض کی وجہ سے بعض جائز امور کا ناجائز ہوجانا فقہ میں معروف ومشہور ہے (اس لئے فتنہ کی وجہ سے عورت کی آواز کا بھی پر دہ ہے )۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۷ج۴) بعض فقہاء نے عورت کی آواز کو عورت (ستر) کہا ہے گوبدن مستور (پردہ) ہی میں ہو ، کیونکہ گفتگواور کلام سے بھی عشق ہوجاتا ہے ،اور(آواز سے بھی) میلان ہوجاتا ہے ۔ (ملفوظات اشرفیہ ص۲۹) عورت کی آواز تو بیشک عورت ہوتی ہے ،اس کو آہستہ بولنا چاہئے تاکہ کبھی کوئی آواز سن کر عاشق نہ ہوجائے ،اس کے زور سے بولنے میں فتنہ ہے اس لئے (عورت کو) زور سے نہ بولنا چاہئے۔ (الافاضات الیومیہ ص۱۸۲ج۲)عورت کی قرأت اور نعت وغیرہ اجنبی مرد کو سنانا جائز نہیں اجنبی عورت یا امرد مشتہی سے گانا سننا یہ بھی ایک قسم کی بدکاری ہے حتی کہ اگر کسی لڑکے کی آواز سننے میں نفس کی شرارت ہوتو اس سے قرآن سننا بھی جائز نہیں ۔ (دعوات عبدیت ص۱۶۲ج۹)