احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بوڑھی عورت کے لئے پردہ میں تخفیف جہاں فتنہ کا احتمال نہ ہو جیسے ساٹھ ستر برس کی بڑھیاتو اس پر یہ حکم بھی واجب نہیں اور اگر پردہ نہ کرے توگنہگار نہ ہوگی ،ہاں تارک سنت ہے ۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۸ج۴) اور ہرچند کہ عجائز کو کشف وجہ (یعنی بوڑھی عورتوں کو چہرہ کھولنے کی) اجازت ہے لیکن اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے اور زیادہ بہتر ہے ۔ (بیان القرآن ص۳۳ج۸ سورہ نور) بہت عرصہ کے بعد ان لڑکیوں نے مجھ سے سامنے آنے کی اجازت چاہی ،میری عمر بھی زیادہ ہوگئی تھی اور وہ بھی بڑی عمر کی ہوگئی تھیں ،انہوں نے یہ کہا کہ اور ہمارا کون ہے اور اب توعمر بھی زیادہ ہوگئی اس وقت میں نے حدود شرعیہ کے اندر سامنے آنے کی اجازت دے دی تھی ۔ (الافاضات الیومیہ ص۷۳ج۱۰)عورت کے تنہا سفر کے ممنوع ہونے کی علت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ سفر میں عورت کو تنہا جانے سے جومنع کیاگیا ہے اس کی وجہ خلوت (تنہائی ) معلوم ہوتی ہے ،فرمایا نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ سفر میں فساد کا موقع بہت ملتا ہے ،دوردور تک کوئی امداد کرنے والا نہیں ہوتا ،اور محرم کے ساتھ ہونے سے خود عورت کے دل میں بھی ایک قسم کی قوت ہوتی ہے کہ اگرکوئی بات پیش آئی تو آواز دینے پر موجود ہوسکتا ہے اور خبر لے سکتا ہے ۔ (الافاضات الیومیہ ص۷۳ج۱۰)