احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
ناپاک نظر سے۔اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں نہ پاک خیال سے ،اور نہ ناپاک خیال سے ،بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے ہی سے ایسی نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے (رکھتے ہیں )تاکہ ٹھوکرنہ کھائیں ،کیونکہ ضروری ہے کہ بے قیدی کی (یعنی آزاد) نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آئیں ،بیشک آزادی گناہ کا ذریعہ توضرورہوجاتی ہے ۔ چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور ہمارے دل اور ہمارے خیالات سب پاک رہیں اس لئے اس نے (پردہ کی) یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی ۔ ہر ایک پرہیز گارجو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو یہ نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابانظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر (یعنی نگاہوں کی حفاظت) کی عادت ڈالنا ضروری ہے ،یہی وہ عادت ہے جس کو احصان ، عفت (پاکدامنی) کہتے ہیں ۔ (المصالح العقلیہ للاحکام النقلیہ ص۲۷۵باب الطلاق)عفت وپاک دامنی کی ضرورت اور اس کا طریقہ خوب سمجھ لیجئے کہ عفت نہایت قابل اہتام چیز ہے اور اس کے لئے ان ذرائع کی ضرورت ہے جو شریعت نے تجویز کی ہیں اور وہ ذرائع اختیار میں ہیں مثلاً نگاہ کا بچانا کہ یہ قابو سے باہر نہیں ہے گواس میں کچھ تکلیف ہو مگر وہ تکلیف نگاہ کوآلودہ کرنے کی تکلیف سے کم ہے ۔ غرض نفس کو نگاہ روکنے سے تکلیف توہوتی ہے مگر یہ روک لینا اختیار میں ہے اگر اپنے اختیار سے کام لیا جائے اور اس تھوڑی سی تکلیف کو گوارہ کرلیا جائے تو