احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتا،اضاعۃ وقت اور اسراف (فضول خرچی) اور مال کی محبت ،اور ریا، سمعہ (شہرت، دکھلاوا) اور تکبر وتفاخر یہ اس کے نتائج ہیں ،جس کو ہم لوگوں نے بہت ہی معمولی سمجھ رکھا ہے ،ان کے متعلق جو وعیدیں قرآن وحدیث میں وارد ہیں ان کوکوئی دیکھے تو کبھی زیور کانام نہ لے،مگرطبیعتوں میں ایسا انقلاب ہوا ہے کہ دنیوی ودینی نقصانات کے باوجود عورتوں کو دن رات اس سے فرصت ہی نہیں ۔ (ملفوظات اشرفیہ مطبوعہ پاکستان ص۲۸۶)زیوراستعمال کرنے کاشرعی حکم عورتوں کو زیور پہناناجائز ہے لیکن زیادہ نہ پہننا بہتر ہے جس نے دنیا میں نہ پہنا اس کو آخرت میں بہت ملے گا ،اور بجتازیور (یعنی جس زیور میں آواز ہوتی ہو)پہننا درست نہیں ،جیسے پازیب وغیرہ اور بجتازیور چھوٹی لڑکیوں کو بھی پہناناجائزنہیں ۔ چاندی اور سونے کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جیسے پیتل ،گلٹ، رانگا،وغیرہ ،مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں ۔ (بہشتی زیور ص۴۸ج۳)ضرورت کی وجہ سے لباس وزیور استعمال کرنے کی مختلف صورتیں اور شرعی احکام ضرورت کے درجے بھی ہیں : (۱)ایک یہ کہ جس کے بغیر کام نہ چل سکے یہ تو مباح بلکہ واجب ہے ۔