احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
توازواج مطہرات ہیں ،فرمایا لوگوں (کی سمجھ) میں بڑی کجی ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ ایمان محفوظ رکھے ،اس قدر فتنے ہیں ،حالانکہ یہ موٹی سی بات ہے کہ اگر اس کومان بھی لیاجائے توسمجھنا چاہئے کہ وہاں تو فتنہ کااحتمال کم تھا جب وہاں انسداد کیاگیا (یعنی پردہ کا حکم کیاگیا) یہاں توبدرجہ اولیٰ اور زیادہ ضروری ہے (کیونکہ یہاں تو واقعی فتنہ کا احتمال ہے) فرمایا تعجب نہیں کچھ زمانہ بعد یہ کجی پیداہوکہ کلام مجید کے ہم مخاطب ہی نہیں کیونکہ (اس وقت) ہم موجود ہی نہیں تھے ۔ (حسن العزیز ص۱۶۳،ملفوظ ص۲۶۱)چہرہ کا پردہ واجب ہونے کی قطعی دلیل یَااَیُّہَاالنَّبِیُّ قُل لاَّزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَائِ الْمُؤمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلاَبَیْبِہِنَّ ذَالِکَ اَدْنیٰ اَنْ یُّعْرَفْنَ۔(احزاب) (ترجمہ) اے پیغمبر کہہ دیجئے اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیبیوں سے کہ نیچے لٹکالیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں اِس آیت میں گھر سے باہر نکلنے کے ضابطہ کی تعلیم ہے کہ جو (نکلنا) کسی سفر وغیرہ کی ضرورت سے واقع ہو اس وقت بھی بے حجاب مت ہو بلکہ اپنی چادرکا پلّہ اپنے چہرہ پر لٹکا لیں تاکہ چہرہ کسی کو نظر نہ آئے ۔ ظاہر ہے کہ اس تصریح کے بعد اس کہنے کی گنجائش کب ہے کہ چہر ہ کا چھپانافرض اور واجب نہیں ۔ (القول الصواب فی تحقیق مسئلہ الحجاب ص۶۰)