احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
تودل کے گناہ پر کیسے ہوسکتی ہے۔ اور جن کو اطلاع ہوتی بھی ہے وہ حضرات ایسے متحمل ہوتے ہیں کہ کسی کو خبر نہیں کرتے ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور وہ کسی کو بری نگاہ سے دیکھ کر آیا تھا تو حضرت رضی اللہ عنہ نے خطاب خاص سے تو اس سے کچھ نہ فرمایا لیکن یہ فرمایا مابال قوم یترشح الزنا من اعینہم یعنی لوگوں کا کیا(عجیب)حال ہے کہ ان کی آنکھوں سے زنا ٹپکتا ہے ،یہ عنوان ایسا ہے کہ اس میں رسوائی کچھ نہیں لیکن جوکرنے والا ہے وہ سمجھ جائے گا۔ (دعوات عبدیت ص۵۲ج۵) غرض چونکہ وہ لوگ (جن کوعلم ہوجاتا ہے) کسی کو فضیحت نہیں کرتے اور جو فضیحت کرنے والے ہیں ان کو اطلاع نہیں ہوتی ،اس لئے یہ گناہ بدنگاہی کا اثر چھپا ہی رہتا ہے اس لئے بے دھڑک اس کو کرتے ہیں ۔ دیگر معاصی مثلاً سرقہ زنا وغیرہ میں تو ضرورت اس کی بھی ہے کہ قوت وطاقت ہو، اس میں اس کی ضرورت نہیں اس لئے بوڑھے بھی اس میں مبتلا ہیں مجھ سے ایک بوڑھے آدمی ملے اور وہ بہت متقی تھے انہوں نے اپنی حالت بیان کی کہ میں لڑکوں کو بری نظر سے دیکھنے میں مبتلا ہوں ،اور ایک اوربوڑھے تھے وہ عورتوں کے گھورنے میں مبتلا تھے ۔ (دعوات عبدیت ص۷۴ج۵)بدنگاہی بھی بدکاری اور بدترین معصیت ہے غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گناہ اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے چنانچہ حدیث میں ہے :