احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۸ اجنبی مردوں سے عورت کو گفتگوکرنے کا شرعی طریقہ قرآن مجید کے اندرغورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اجنبی مردوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں جس سے نفرت پائی جائے نہ کی محبت والفت ،واقعی غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں جذبات کی پوری رعایت ہے نرم لہجہ سے اجنبی شخص کو ضرور میلان ہوتا ہے کیسی عجیب سچی بات ہے ،اور سخت لہجہ سے اجنبی مردکو نفرت ہوتی ہے (الغرض) عورتوں کے لئے قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ پردہ کے ساتھ بھی اجنبی مرد کے ساتھ نرم لہجہ سے گفتگو بھی مت کرو، اس طرح سے آواز کا بھی پردہ ہے ۔ عورت کے لئے تہذیب یہی ہے کہ غیر آدمی سے روکھابرتاؤ کرے ،افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کو چھوڑ دیا ،حق تعالیٰ تو فرماتے ہیں فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوَْفاَیعنی کسی سے نرم لہجہ سے بات نہ کرو، دیکھئے اس آیت کی مخاطب وہ عورتیں ہیں جو مسلمانوں کی مائیں تھیں یعنی ازواج مطہرات ،ان کی طرف کسی کی بری نیت جاہی نہیں سکتی تھی مگر ان کے لئے بھی یہ سخت انتظام کیاگیا تو دوسری عورتیں توکس شمار میں ہیں ۔ازواج مطہرات سے حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مردوں کے ساتھ نرم لہجہ سے بات مت کرو، جب بات کرنا ہو تو خشک لہجہ سے کرو، جس سے مخاطب یہ سمجھے کہ بڑی کھری اور ٹری