احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
اور بلاضرورت نفسانی لذت کے لئے بات چیت کرنا حرام ہے ،حدیث میں ہے اللسان یزنی کہ زبان بھی زنا کرتی ہے ۔ (ثبات الستور مع تسہیل ص۷،۲۶)ہندوستانی لونڈیوں کا شرعی حکم لونڈی(باندی) سے (شریعت نے) بے پردہ ہونے کی اجازت دی ہے اس سے مرادوہ لونڈی نہیں ہے جو ہندوستان میں اکثر بڑے گھروں میں موجود ہیں کیونکہ یہ توشرعی قاعدہ سے آزاد ہیں ،نہ ان سے جبراً خدمت لینا جائز ہے نہ ان سے خلوت اور صحبت کی اجازت ہے ،بالکل اجنبی آزاد عورت کے مثل ہیں ،نوکروں کی طرح ان سے برتاؤ کرنا چاہئے ،خدمت رضامندی سے ہونا چاہئے ،اور ان کو اختیار ہے جس سے چاہیں نکاح کریں ،جب چاہیں ،جہاں چاہیں چلی جائیں ،ان پر کوئی زبردستی نہیں ۔ (فروع الایمان ص۶۸)کالی کلوٹی بدصورت عورت جس سے فتنہ کا خطرہ نہ ہو اس سے پردہ کاحکم (سوال) سیاہ فام (یعنی کالی کلوٹی) بدصورت جوان عورت جس کے چہرہ کھولنے میں کسی فتنہ کا خوف نہیں اگروہ چہرہ نہ چھپائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے ؟ (الجواب) سیاہ سفید کے احکام میں شریعت نے کوئی فرق نہیں کیا بلکہ جوان عورت کو ہرحال میں محل فتنہ قراردیا ہے اس لئے سیاہ فام بدصورت عورت کو بھی بلاضرورت چہرہ کھولنا حرام ہے نیز مشاہدہ یہ ہے کہ بعض لوگ سیاہ فام عورتوں کو زیادہ