احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
ہے ،جیسے بندوق ،ہوائی جہاز وغیرہ،یہ درحقیقت تشبہ نہیں ،مگر شرط یہ ہے کہ اس کے استعمال کرنے سے نیت وارادہ کا فروں کی مشابہت کا نہ ہو ، مگر ان جائز چیزوں کی تفصیل اپنی عقل سے نہ کریں بلکہ علماء سے پوچھ لیں ۔ (حیات المسلمین ،روح بست وپنجم) اور مسلمانوں میں جو فاسق یابدعتی ہیں ،ان کی وضع اختیارکرنا بھی گناہ ہے ۔ (انفاس عیسیٰ ص۳۹)تشبہ ختم ہوجانے کی پہچان اس کا معیار یہ ہے کہ جن چیزوں کے دیکھنے سے عام لوگوں کے ذہن میں یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ بات کفار کی ہے ،اور کفار کی خصوصیت کی طرف ذہن جاتا ہوگا تو تشبہ ہوگا ورنہ نہیں ۔ (بس تشبہ کے ختم ہوجانے کی) پہچان یہ ہے کہ ان چیزوں کے دیکھنے سے عام لوگوں کے ذہن میں یہ کھٹک نہ ہو کہ وضع توفلانے لوگوں کی ہے ،جب تک یہ خصوصیت باقی ہے اس وقت تک منع کیاجائے گا ،جیسے ہمارے ملک میں کوٹ پتلون پہننا ،دھوتی باندھنا ،یاعورتوں کو لہنگا(ساڑی اور مردانہ کرُتے) پہننا ،البتہ اگر یہاں پر بھی کوٹ پتلون عام ہوجائے کہ ذہن میں خصوصیت جاتی رہے تو ممنوع نہ ہوگا، مگر جب تک دل میں کھٹک ہے اس وقت تک تشبہ کی وجہ سے ناجائز رہے گا۔ (حسن العزیز ص۲۱۳ج۳)