احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
بزرگوں اوردینداروں سے زیادہ پردہ کرنا چاہئے فرمایا کہ لوگ عورتوں کوبزرگوں سے تو بچاتے ہی نہیں حالانکہ بزرگوں میں زیادہ قوت ہوتی ہے کیونکہ وہ سب باتوں سے (یعنی بدنگاہی وغیرہ) سے رکے رہتے ہیں اور فاسق وفاجر میں کچھ نہیں رہتا کیونکہ فسق وفجور میں نکل جاتا ہے اور کچھ آنکھوں کی راہ سے نکل جاتا ہے ،کچھ گندے خیالات کی راہ سے نکل جاتا ہے ۔ اور جو متقی ہوتے ہیں ان کا سب ذخیرہ کو ٹھری ہی میں (یعنی ان کے اندر) رہتا ہے سب راہیں نکلنے کی بندرہتی ہیں اس لئے بزرگوں سے ضروربچنا چاہئے ۔بخاری شریف کے حاشیہ میں صراحۃً لکھا ہے کہ ان شہوۃ المتقی اشد(متقی کو شہوت زیادہ ہوتی ہے ) کیونکہ تقویٰ کا خاصہ ہے کہ ادراک صحیح ہوجاتا ہے ۔ بزرگوں کا ادراک بہت صحیح ہوتا ہے ،آواز سے یہ لوگ استدلال کرسکتے ہیں ،صورت سے یہ استدلال کرسکتے ہیں ،لب ولہجہ سے یہ استدلال کرسکتے ہیں ،چال ڈھال سے یہ استدلال کرسکتے ہیں ان کے استدلال غضب کے ہوتے ہیں ۔ (حسن العزیز ص۶۹۹ج۱)دیندارمتقیوں میں شہوت زیادہ ہونے کی وجہ ابن قیمؒ کا ارشاد ابن قیمؒ نے اس قول کی وجہ لکھی ہے کہ ان حضرات میں ذکر کانورپھیلا ہوا رہتا ہے ،اور نور کا اول خاصہ نشاط طبیعت ہے اور اس امر کا دارمدارنشاط پر ہے ، جب نشاط ہوگا تو میلان ہوگا چونکہ بزرگوں میں ذکر کا نور پھیلا ہوارہتا ہے اس لئے