احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
میری رائے میں عورتوں کو اپنی تصانیف میں اپنا نام نہیں لکھنا چاہئے بلکہ صرف یہ کافی ہے کہ خدا کی ایک بندی۔ (حسن العزیز ص۷۲۳ج۱) عورتوں کو اس طرح رکھنا چاہئے کہ محلہ والوں کو بھی خبر نہ ہوکہ اس گھر میں کتنی عورتیں ہیں اور ہیں بھی یانہیں اسی میں آبرو کی خیر ہے ،عورت کے لئے یہی مناسب ہے کہ اس کی خبر اپنے گھر والوں کے سوا کسی کو بھی نہ ہو۔ (حقوق البیت ص۳۳)عورت کے نام کاپردہ (سوال ۲۳۷) آج کل یہ امر طے شدہ مان لیاگیا ہے کہ پردہ نشین عورتوں کانام مردوں کی طرح خط یااخبارات وغیرہ میں ضرور ظاہر کردینا چاہئے ،چنانچہ اخبارات میں شائع بھی ہوتے ہیں اور یہ اخبارات ہمارے گھروں میں بھی آتے ہیں ان کے پتے وغیرہ پر عورتوں کے نام لکھے جاتے ہیں ،غرض جس طرح عام مرداپنا نام اخبارات وغیرہ میں ظاہر کرتے ہیں عورتیں بھی ظاہر کرتی ہیں توغرض یہ ہے کہ اس میں کوئی شرعی قباحت تونہیں ، پہلے اکثر لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے مگر ایک مضمون میں شرعی طورپر بتلایاگیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ،عورتوں کو اپنانام ظاہر کرنے سے شریعت نے نہیں روکا، حضور تحریر فرمائیں کہ یہ طریقہ کیسا ہے اور اخبارات وغیرہ میں عورتوں کا اپنا مضمون اپنے نام سے شائع کرانا کیسا ہے ؟ (الجواب) عوارض سے قطع نظر تو یہی جواز کا حکم صحیح ہے لیکن عوارض کی وجہ سے بعض جائز امور کا ناجائز ہوجانا فقہ میں مشہورو معروف ہے ،اور یہاں ایسے عوارض کا وجود (بظن غالب بلکہ) یقینی ہے اس لئے ضروراس کوناجائز کہا جائے گا۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۹ج۴)