احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
عورتوں کے دیکھنے کے اعتبار سے احکام کی تفصیل مردوں کو عورتیں دیکھ سکتی ہیں یانہیں ؟ عورت کوشہوت کے ساتھ کسی کی طرف قصداً نظرکرنا جائز نہیں سوائے شوہر کے ،اور بلاشہوت نظرکرنے میں تفصیل ہے کہ عورت کا دوسری عورت کے بدن کوناف سے زانوتک کے علاوہ دیکھنا درست ہے ۔ اور مرد کے بدن کوناف اور زانوکے درمیان (دیکھنا) تو بالاتفاق حرام ہے ،اور اس کے علاوہ کا دیکھنا مختلف فیہ ہے شافعیہ کے نزدیک حرام ہے اور حنفیہ کے نزدیک بلاشہوت گوحرام نہیں مگر خلاف اولیٰ ہے چنانچہ ابوداؤد ،ترمذی، نسائی، بیہقی، میں حدیث ہے کہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی نے حضور کی خدمت میں آنا چاہا تو آپ نے ام سلمہ ومیمونہ سے فرمایا پردہ میں ہوجاؤ،انہوں نے عرض کیا کہ وہ تونابینا ہیں ہم کونہ دیکھیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم بھی نابینا ہو کیا تم ان کو نہ دیکھوگی ،اور شرعی ضرورت سے اجازت ہے ۔ مسئلہ :کافر عورت سے مثل اجانب کے بدن ڈھانکنا واجب ہے۔ (بیان القرآن ص۱۶ج۸ نور)نابالغ لڑکوں سے پردہ ہے یانہیں ؟ نابالغ لڑکے تین قسم کے ہیں : (۱) ایک تو بالکل نادان (ناسمجھ) جن کو بالکل کسی چیز کی تمیز نہیں ،ان کے روبرو تو برہنہ (بالکل ننگا) ہونا بھی جائز ہے ،وہ مثل جمادات (پتھر وغیرہ ) کے ہیں ۔