احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
فصل پردہ سے متعلق چندضروری احکام ومسائل مسئلہ:مرد کو ناف سے زانوکے نیچے تک بدن ڈھانکنا فرض ہے مردوں سے بھی اور عورتوں سے بھی ، سوائے اپنی بیوی کے کہ اس سے کوئی عضوڈھانکناضروری نہیں ، گوبلا ضرورت بدن دکھانا خلاف اولیٰ ہے ۔ مسئلہ:عورت کو عورت کے سامنے ناف سے نیچے زانوتک بدن کھولنا جائز نہیں اس سے معلوم ہوا کہ بعض عورتیں جو نہاتے وقت دوسری عورتوں کے سامنے ننگی بیٹھ جاتی ہیں یہ بالکل گناہ ہے ۔ مسئلہ:عورت کو اپنے شرعی محرم کے سامنے ناف سے زانوتک اورکمر اور پیٹ کھولناحرام ہے ،باقی سراور چہرہ اور بازو اور پنڈلی کھولنا گناہ نہیں ،گوبعض اعضاء کا بلا ضرورت ظاہر کرنا مناسب بھی نہیں ۔ اورشرعی محرم وہ ہے جس سے عمر بھر کسی طرح نکاح صحیح ہونے کا احتمال نہ ہو مثلاً باپ ،بیٹا،بھائی ،یاان کی اولاد، یابہنوں کی اولاد اور ان کے مثل جن جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو۔ اور جس سے عمر میں کبھی نکاح صحیح ہونے کا احتمال ہو وہ شرعاً محرم نہیں ،بلکہ نامحرم ہے اور جو حکم شریعت میں محض اجنبی اور غیر آدمی کا ہے وہی ان کا ہے ،گویا کسی قسم کا رشتہ قرابت کا بھی ہو جیسے چچایاپھوپھی کا بیٹا یاماموں کا یاخالہ کا بیٹا ،دیور یابہنوئی یانندوئی وغیرہم ،یہ سب نامحرم ہیں ،ان سے وہی پرہیز ہے جو نامحرم سے