احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
شوہر بیوی کا آپس میں پردہ اپنے شوہر سے کسی جگہ کا پردہ نہیں ہے تم کو اس کے سامنے اور اس کو تمہارے سامنے سارے بدن کا کھولنا درست ہے مگر بے ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں ۔ (بہشتی زیور ص۴۹ج۳) شوہر کے روبرو (سامنے) کسی جگہ کا بھی اخفاء (پردہ) واجب نہیں گوخاص بدن کو دیکھنا خلاف اولیٰ ہے ۔ (۱) قالت سیدتنا ام المؤمنین عائشۃ رضی الہ عنہا مامحصلہ لم ارمنہ ولم یرمنی ذلک الموضع اور دہ‘ فی المشکوٰۃ۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ وہ مخصوص مقام( یعنی شرمگاہ )نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرادیکھا اور نہ میں نے دیکھا۔(مشکوٰۃ) (۲) وروی، عن ابن عباس مرفوعاً اذاجامع احدکم زوجتہ‘ اوجاریـتہ فلاینظر الی فرجہا فان ذالک یورث العمیٰ قال ابن الصلاح جیدالاسناد کذافی الجامع الصغیر۔ (بیان القرآن سورہ نور ص۱۶ج۸) اور حضرت ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یاباندی سے جماع کرے تو اس کی شرمگاہ نہ دیکھے کیونکہ یہ اندھے پن کو پیداکرنا ہے ابن صلاح فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد اچھی ہے ،جامع صغیر میں اسی طرح ہے۔(بیان القرآن ص۱۶ج۸)