احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
زینت ومواقع زینت کی تفصیل اور ان کا شرعی حکم ولایبدین زینتہن اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں ’’زینت‘‘ سے مراد زیور جیسے کنگن ،چوڑی ،خلخال، بازوبند ،طوق جھومر ،پٹی ،بالیاں وغیرہ۔ اور ان کے مواقع سے مراد ہاتھ ،پنڈلی ،بازو ،گردن ، سر، سینہ ،کان ،یعنی ان سب مواقع کو اجنبیوں سے پوشیدہ رکھنا واجب ہے ،جن کا ظاہر کرنامحارم (یعنی ایسے رشتہ دار جن سے نکاح جائز نہ ہوسکتا ہو) کے روبروجائز ہے (اس کے علاوہ) اور مواقع واعضاء جو بدن کے رہ گئے جیسے پشت، شکم (پیٹھ پیٹ وغیرہ) ان کا کھولنا محارم کے روبروبھی جائز نہیں ۔ (بیان القرآن ص۱۵ج۸ نور)آج کل کے خوبصورت برقعے اللہ تعالیٰ نے پردہ کے احکام (بیان فرمانے) کا کس قدر اہتمام کیاہے ،فرماتے ہیں ولا یبدین زینتہن (کہ عورتیں اپنی زینت کو بھی ظاہر نہ کریں ) اور قرآن میں زینت سے مراد لباس ہے چنانچہ آیت خذوزینتکم ( کہ زینت کو اختیارکرو) اس میں تو سب مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد لباس ہی ہے۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت ولایبدین زینتہن کی تفسیر یہی کی ہے کہ عورتیں خوب بن ٹھن کر بھڑکدار برقعہ اوڑھ کر باہر نکلتی ہیں اور زینت کو تو برقعہ چھپا لیتا ہے مگر (خود) برقعہ میں ایسی چین بیل لگی ہوتی ہے کہ اس کو دیکھ کر دوسرے کا دل بے چین ہوجائے ،واقعی وہ برقعہ ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اندر کوئی حور کی بچی ہوگی ،گومنہ کھولنے کے بعد چڑیل ہی کی ماں نکلے،توشریعت نے ایسے (برقعے) اور زینت کے لباس کا ظاہر