احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے ان سے بازرہنا ضروری ہے فرمایا محرمات شرعیہ(یعنی جن چیزوں کو شریعت نے حرام قراردیا ہے ان) کی مثال بادشاہی چیزوں کی طرح ہے مثلاً بادشاہ نے یہ فرمایا کہ ان چیزوں کو ہاتھ مت لگاؤ تو بس جن چیزوں کے چھونے سے منع کیا ہے ان کو ہرگزنہ چھونا چاہئے اگر چہ سب چیزیں بادشاہ کی ہیں ،مگر منع کرنے کی وجہ سے ان کو چھونا ہرگزدرست نہ ہوگا ،اور بلااجازت چھولے گا تو مجرم قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مثل بادشاہ کے ہیں اور ہم لوگ مثل غلام کے ہیں پس جب کہ اللہ تعالیٰ نے اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور (بے ضرورت) گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے تو ان عورتوں کو براسمجھنا ضروری نہیں وہ شاہی چیزوں کی طرح اچھی بھی ہوں تب بھی منع کرنے کی وجہ سے ہم کو چاہئے کہ ہرگزان سے گفتگو نہ کریں اور نہ ان کو دیکھیں بلکہ بیعت کے وقت بھی ان کو ہاتھ نہ لگائیں صرف زبانی بیعت کرلیں ۔ (مقالات حکمت دعوات عبدیت ص۱۳۸ج۲۰)زنا اورلواطت کے حرام ہونے کی وجہ فاسق فاجر کادل ٹٹولا جائے تو صاف ظاہر ہوگا کہ وہ مفید تدبیروں کے تو معتقد ہیں لیکن ان پر نفسانی خواہشیں غالب ہوجاتی ہیں جو ان سے نافرمانیاں کراتی ہیں ،وہ خود خوب جانتے ہیں کہ ہم گنہگار ہیں اور لوگوں کی بہوبیٹیوں سے زنا