احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
ساڑی پہننا، اس وقت یوپی میں غیر مسلم یابدکاراور آزاد عورتوں کا لباس سمجھا جاتا ہے ،اس لئے مکروہ ہوگا ،لیکن صوبہ بہار میں عام لباس یہی ہے مسلمان عورتیں بکثرت بلکہ سب ساڑی استعمال کرتی ہیں ،اس لئے وہاں تشبہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ،لہٰذا وہاں بلاکراہت جائز ہوگا۔دوسری قوموں کے نئے نئے فیشن اختیارکرنا بعض عورتوں نے سایہ پہننا شرو ع کیا ہے اور وہ میم صاحب بننا چاہتی ہیں ،ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ، کان ننگے ان میں بالیاں تک نہیں جو طرز میموں کا ہے وہ اختیارکیا ہے ،عورتوں میں یہ نیافیشن ہے ۔ میں کہتا ہوں اس سے قطع نظر کہ تشبہ(یعنی لباس میں بھی دوسری قوموں کی مشابہت اختیارکرنا ) ناجائز ہے ، اخلاق پر بھی تو اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے وہ یہ کہ اس سے تکبر پیداہوتا ہے تو جو (لباس) تکبر کا سبب ہوگا ، وہ بھی ناجائز ہوگا (ایسا لباس پہننے والے) اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو ذلیل سمجھتے ہیں ۔ اور میں یہ نہیں کہتا کہ غیر قوم کی ہر چیز ناجائز ہے بلکہ وہ ناجائز ہے جس کو دوسری قوم کے ساتھ خصوصیت ہے ،اور جس چیز کو دوسری قوم کے ساتھ خصوصیت نہیں وہ جائز ہے ،جیسے کرسی وغیرہ میں کوئی امتیاز ی شکل باقی نہیں رہی اور وہ کسی خاص قوم کی وضع نہیں سمجھی جاتی ، اس لئے جائز ہے اور سایہ وغیرہ میں امتیاز ی شکل باقی ہے اس لئے ناجائز ہے ۔ اور امتیازی شکل (باقی رہنے یا نہ رہنے) کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کودیکھ کر طبیعت کھٹک جائے کہ یہ تو فلاں قوم کا طرز(لباس) ہے تو تشبہ ہے ورنہ تشبہ