احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
مس(چھونے) کے وقت جوان کے لئے عضوکے منتشر ہونے اور شیخ (بوڑھے) کے لئے تحرک قلب (یعنی قلبی میلان) کو علامت لکھا ہے ،نیز جوان مرد سے عادۃً بھی عورتیں زیادہ پرہیز کرتی ہیں ،اور بوڑھے کو تو فرشتہ سمجھتی ہیں اس لئے اس سے زیادہ احتیاط درکار ہے ۔ (ملفوظات دعوات عبدیت ص۹۰ج۱۹)وجوہات اور دلائل فرمایا بوڑھے سے زیادہ پردہ اور احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ اس میں جس طرح اور قوتیں کمزور ہیں ویساہی شہوت کی مقاومت (قوت ،برداشت) بھی کمزور ہے ،اور تقاضااور میلان اس کوبھی ہوتا ہے ،اور مقاومت (تحمل) کرنہیں سکتا ۔ دوسرے یہ کہ اس کو عروض شہوت (یعنی شہوت کے پیش آنے ) کا احساس کم ہوتا ہے اس واسطے وہ اس کو شہوت کا تقاضاسمجھتا ہی نہیں تیسرے یہ کہ اس کو تجربہ کی وجہ سے دقائق حسن(خوبصورتی کی باریکیوں ) کا ادراک بہت ہوتا ہے ،تھوڑے ہی خیال سے یہ مادہ متحرک ہوجاتا ہے ۔ چوتھے یہ کہ جوان شخص توفراغت کے بعد سردہوجاتا ہے (ٹھنڈاپڑجاتا ہے)اور بوڑھے کو چونکہ فراغت ہوتی نہیں اس واسطے اس میں میلان قوی رہتا ہے،حسن خوبصورتی کو سو چ سوچ کر مزے لیتارہتا ہے جوقلب کا زنا ہے ۔ (الکلام الحسن ص۱۳۳) میری تو خوب اطمینان کی تحقیق ہے کہ عفت (پاکدامنی) جیسی جوانوں میں ہوتی ہے بڑھاپے میں نہیں ہوتی عفیف جوان بہ نسبت عفیف بڈھوں کے زیادہ پاکدامن ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ضبط کی قوت زیادہ ہوتی ہے یہ بالکل تحقیقی