احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
پردہ کی قسموں میں اصل پردہ تیسرے ہی درجہ کا ہے نقلی وعقلی مسلمہ ہے کہ احکام بعض اصلی ہوتے ہیں اور بعض عارضی اسی طرح پردہ کے دودرجے ہیں ،ایک اصلی جوان آیات میں مذکور ہے وقرن فی بیوتکن (اے عورتو اپنے گھر میں رہا کرو) اور واذاسالتہموہن متاعافاسئلوہن من وراء حجاب (جب عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کی آڑ سے مانگو)(یہ پردہ کا حکم اصلی ہے جو تیسری قسم ہے ) اور دوسرادرجہ عارضی ہے وہ یہ کہ ضرورت کے موقع پر اس (حکم اصلی) میں تخفیف کردی گئی ،اور یہ درجہ ان آیات میں مذکور ہے یدنین علیہن من جلابیبہن الآیۃ وغیرذالک۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۵ج۴)پردہ کے تینوں درجوں کے احکام اور ان کا باہمی فرق (۱) پردہ کے ان تینوں درجوں میں اتنافرق ضرور ہے کہ پہلا درجہ اپنی ذات سے واجب ہے ،اور دوسرا اور تیسرا درجہ کسی عارض کی وجہ سے واجب ہے مگر اس فرق سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان تینوں درجوں میں سے کوئی درجہ واجب نہ رہے بلکہ اس فرق کے ساتھ تینوں درجے واجب ہیں ۔ (۲) اور چونکہ پہلا درجہ (یعنی چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے بدن کا چھپانا) اپنی ذات سے واجب ہے اس لئے اس کا حکم بھی جوان اور بوڑھی عورتوں سب کو عام ہے یعنی چہرہ اور ہاتھوں کے سوا باقی بدن یاسر کے کسی حصہ کا اجنبی کے سامنے کھولنا بوڑھی عورتوں کو بھی جائز نہیں ۔