احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بدنگاہی سے بچنے کی تدبیر شیطان اول تواچھی نیت سے دکھلاتا ہے چند روز کے بعد جب محبت جاگزیں ہوتی ہے تو پھر نگاہ کو ناپاک کردیتا ہے توضروری امریہ ہے کہ علاقہ(تعلق) ہی نہ کرو اور علاقہ ہوتا ہے نظر سے لہٰذا نظرہی نہ کرو، غالباً حدیث میں ہے یاکسی بزرگ کا قول ہے: ’’النظر سہم من سہام ابلیس‘‘(کہ نظرکرنا ابلیس کے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے) یہ نظر ایسی چیز ہے کہ اس کا اثر پیداہونے کے بعد بھی مدت تک یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ ہم کو تعلق ہوگیا ،بلکہ کبھی محبوب جدا ہوتا ہے اس وقت قلب میں ایک سوزش سی پیداہوتی ہے اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ تعلق ہوگیا ،اور جس قدر یہ سوزش بڑھتی ہے خدا کی محبت کم ہوتی جاتی ہے اور اس سے خداتعالیٰ کو بہت غیرت آتی ہے (دعوات عبدیت الانغاظ ص۱۲۲ج۹)بدنگاہی چھوڑنے کے لئے آسان علاج جب اس لغو کام کی عادت پڑجاتی ہے توکم ہمتوں سے بڑی مشکل سے چھوٹتا ہے،ہاں اگر ہمت کی جائے اور پختہ قصد کرے تو چھوٹ بھی جاتا ہے ،کیونکہ بعض گناہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں ایک حدتک مجبوری بھی ہوسکتی ہے ،جیسے غریب آدمی کا رشوت لینا کہ اگرنہ لے توبظاہر اس کے کام اٹکتے ہیں ،اور اس میں توکوئی ایسی مجبوری بھی نہیں کہ کوئی کام اس پر اٹکا ہوا ہو بس اس میں تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں زیادہ سے زیادہ تھوڑی سی تکلیف نفس کو ہوگی ،اس کا