احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بدنگاہی کی وجہ سے سلبِ ایمان کا خطرہ ایک روایت ہے کہ ’’النظر سہم من سہام ابلیس‘‘ یعنی نظر ایک تیرہے شیطانوں کے تیروں میں سے ،نظر کرنے سے دل میں ایک آگ بھڑک اٹھتی ہے اور نظر کو روکنے میں وہ آگ گھٹتی ہے جس سے تکلیف ضرورہوتی ہے لیکن وہ آگ وہیں (دب کر) رہ جاتی ہے جہاں تھی ،بھڑکتی نہیں ،گھٹ کر بجھ جاتی ہے اور نظرکرنے سے موت تک کی نوبت آجاتی ہے کیونکہ جب مقصد حاصل نہیں تو پھر تقاضا پیدا ہوگا تکرار نگاہ کا اور پھر بھی مقصود حاصل نہیں ہوتا تو پھر تقاضا پیداہوتا ہے غرض یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا تو نگاہ کرلینے کا نقصان توختم نہیں ہوتا اور نگاہ کوروک لینے کی تکلیف ذرادیر میں ختم ہوجاتی ہے ۔ تجربہ کرکے دیکھ لیجئے دوچار دفعہ نظر کوروکئے اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ جو تکلیف نظر روکنے سے ہوتی تھی وہ اس میں ہرگز نہیں ہوگی ،جو تکلیف نظر کرنے میں ہوتی ہے وہ نظر کوروکنے کی تکلیف سے زیادہ ہوتی ہے ۔ (مفاسد گناہ ص۱۷۲) کانپور میں ایک بزرگ تھے وہ بیان کرتے تھے کہ میں جوانی میں لکھنؤ میں ایک مرتبہ ناچ میں چلا گیا وہاں ایک بازاری عورت پر جونظر پڑی بس دل ہاتھ سے نکل گیا اور اس قدر فریفتگی کا غلبہ ہوا کہ بیوی بچوں کو چھوڑ ااس کے پیچھے ہولئے ۔ (التہذیب ملحقہ برکات رمضان ص۳۶۸)عبرتناک واقعہ ابن القیمؒ نے ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک عاشق جو اپنے محبوب کے ملنے