احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
یادرکھو! رغبت کے مختلف انواع ہیں جیسی رغبت پھول کی طرف ہے ویسی انسان کی طرف نہیں ،اچھے کپڑے کودیکھ کر کبھی جی نہیں چاہتا کہ اس کو گلے لگالوں ، چمٹالوں ، انسان کی طرف ایسی ہی رغبت ہوتی ہے ۔ ایک دھوکہ اور ہوتا ہے وہ یہ کہ بعضے یہ کہتے ہیں کہ جیسے اپنے بیٹے کو دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ گلے لگالوں اسی طرح دوسرے کے بچے کودیکھ کر بھی ہمارا یہی جی چاہتا ہے ۔ صاحبو!کھلی ہوئی بات ہے اپنے سیانے بچے اور دوسرے کے سیانے لڑکے میں بڑا فرق ہے ،اپنے لڑکے کو گلے لگانا چمٹانا اور طرح کا ہے ،اس میں شہوت کی آمیزش ہرگز نہیں ،اور دوسرے کے لڑکے کی طرف اور قسم کا میلان ہے کہ اس میں گلے لگانے سے بھی آگے بڑھنے کوبعض کا جی چاہتا ہے،محبوب کی جدائی میں اور طرح کا رنج ہوتا ہے اور لڑکے کی جدائی میں اور قسم کا ،اور لڑکوں کی رغبت تواور بھی سم قاتل ہے نصوص میں اس کی حرمت ہے ۔ (دعوات عبدیت ص۱۱۸ج۹)بدنگاہی کا مرض کیسے پیدا ہوجاتا ہے یہ مرض اول جوانی میں پیداہتا ہے بلکہ سب گناہوں کی یہی شان ہے کہ اول جوانی میں تقاضے کی وجہ سے کیا جاتا ہے پھر وہ مرض اور روگ لگ جاتا ہے ،جیسے حقہ کہ اول کسی مرض کی وجہ سے پیناشروع کیا تھا مگر پھر یہ مرض لگ جاتا ہے اور شغل ہوجاتا ہے ۔ لیکن جوان اور بوڑھے میں فرق یہ ہے کہ جوان آدمی تو معالجہ کے لئے کسی سے کہہ بھی دیتا ہے اور بوڑھا آدمی شرم کی وجہ سے کسی سے کہتا بھی نہیں ،اس کے مخفی رہنے کی وجہ سے اس میں کثرت ابتلا ہے ۔ (دعوات عبدیت ص۷۵ج۵)