احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
دبدبہ والی قوم ہے ،اس کو محض اس لئے اختیارکرتے ہیں تاکہ ہمارا بھی رعب پڑے۔ میں کہتاہوں کہ کون ساکام اٹکاہوا ہے ،اصل منشاء محض تکبر ہے بس اپنے کو بڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں ،اور یہ بڑابننا قانون الٰہی میں بہت بڑاجرم ہے گوتعزیرات ہند(ہندوستانی دفعات) میں نہ ملے گا ،مگر تعزیرات شرع (یعنی شریعت کی دفعات ) میں ملے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے قلب میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جاسکتا، جو جنت کونہ مانے وہ تو مخاطب ہی نہیں ،مگر جو جنت کو مانتا ہے وہ سمجھ لے کہ اس پر کیسی وعید ہے ۔ جنت جیسی چیز کا ہاتھ سے جاتارہنا کیا چھوٹی بات ہے حدیث کے علاوہ قرآن شریف میں ہے: اِنَّ اللّٰہَ لاَیـُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ ، اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کوپسند نہیں فرماتے ،اور شیطان راندۂ درگاہ ہوا، اس کا سبب بھی تکبر تھا ،غرض اپنے کو بڑاسمجھنا یہ جرم ہے اور فیشن وغیرہ میں جوغلو پیداہوگیا ہے اس کا منشا تکبر ہے ۔ (العاقلات الغافلات ص۳۴۵)شرعی دلیل حق تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں :وَلاَتـَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ الناَّرُ (ترجمہ)اور تم لوگ ظالموں (یعنی نافرمانوں ) کی طرف مت جھکو کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کی طرف میلان حرام ہے ،اور یہ یقینی بات