احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
پردہ کے تیسرے درجہ میں (یعنی گھرہی کے اندر رہنا برقع کے ساتھ بھی باہر نہ نکلنا) اس میں (بھی) مجبوری (اورضرورت) کی حالت مستثنیٰ ہے گوسخت مجبوری یابہت سخت مجبوری کی صورت نہ ہو مگر مجبوری کا درجہ موجود ہو۔ اور مجبوری کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر سے یاپردہ سے نہ نکلیں توغیر معمولی نقصان یاحرج لاحق ہوجائے ،ایسی ضرورت میں تمام بدن چھپا کربرقع کے ساتھ گھر سے نکلنا جوان اور ادھیڑ عورتوں کے لئے جائز ہوگا اور بغیر ایسی مجبوری (وضرورت) کے برقع کے ساتھ تمام بدن چھپا کر ان کو نکلنا جائز نہ ہوگا۔ (ثبات الستور ص۱۷)ساری بحث کا خلاصہ ان سب احکام کا خلاصہ یہ ہوا کہ بوڑھی عورتوں پر پہلا درجہ (یعنی چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ سارابدن چھپانا ) واجب ہے ،اور دوسرا اور تیسرا درجہ مستحب ہے ،اور بہت مجبوری کی حالت میں پہلے درجہ میں بھی (جوکہ واجب ہے ) کچھ سہولت اور وسعت (گنجائش) کردی گئی ہے ۔ اور جوان اور ادھیڑ عورتوں کے لئے پہلا درجہ (یعنی چہرہ ،ہتھیلیوں کے علاوہ پورا بدن چھپانا) بھی واجب ہے ،اور بہت سخت مجبوری میں اس میں کچھ سہولت ووسعت بھی ہے ،اور دوسرا اور تیسرا درجہ (یعنی گھروں میں رہنا اور ضرورت کی بنا پر جب باہر نکلنا ہوتوبرقع کے ساتھ نکلنا )یہ درجہ بھی ان پرواجب ہے اور بہت سخت مجبوری سے کم درجہ کی مجبوری اور ضرورت کے مواقع میں کچھ سہولت ووست بھی ثابت ہے یعنی اگر مجبوری کا درجہ ہو تو چہرہ اور ہتھیلیاں کھولنا اجنبی کے سامنے ان کو