احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۱۵ فیشن پرستی حق تعالیٰ نے مردووعورت میں فرق رکھا ہے ،عورت کو مردوں کی برابری ظاہرکرنا اور ان کے مشابہ بننا جائز نہیں ،اسی کوتشبہ بالرجال کہتے ہیں یعنی مردوں کی سی صورت، شکل، چال، ڈھال اختیارکرنا حرام ہے ،مگر آج کل عورتوں میں یہ خبط بھی بہت پایا جاتا ہے ،وضع قطع میں مرد بننا چاہتی ہیں ان کا بس چلے تو سچ مچ مرد ہی بن جائیں ،مگر کیا کریں یہ توان کے اختیار سے خارج ہے ،لہٰذا اتنا کرتی ہیں کہ مردانہ جوتا ہی پہن لیتی ہیں (مردانہ لباس پہن لیتی ہیں ) بیٹیو!خداسے ڈرو کہیں تمہارے ڈاڑھی نہ نکل آئے خداتعالیٰ کو کچھ مشکل نہیں ،یادرکھوحق تعالیٰ نے ان باتوں کی تمنا کرنے سے بھی منع کردیا ہے جو مردوں کے ساتھ خاص ہیں ،توتکلف کے ساتھ ان کے اختیار کرنے کو کب جائز رکھیں گے۔ بیٹیو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو کہیں تشبہ بالرجال (مردوں کی مشابہت اختیار) کرنے سے تمہارے منہ پر ڈاڑھی نہ نکل آئے ہم نے لکھنؤ میں ایک تمباکو بیچنے والی عورت کو دیکھا ہے اس کی ڈاڑھی نکل آئی ۔ (مردوں کی وضع اختیار کرنے والے پر سخت وعید آئی ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت پر لعنت فرمائی ہے جومردوں کی سی وضع بنائے اور ایسے مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں جیسی وضع بنائے ،اس لعنت کو مسلمان کیسے گوارہ کرسکتا