احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
(۲)ذرا ہوشیا رکہ تمیز تو رکھتا ہے مگر حدشہوت کو نہیں پہنچا اس کے روبروناف سے زانو تک کھولنا جائز نہیں باقی جائز ہے ۔ (۳)تیسراوہ جو بلوغ کے قریب پہنچ گیا ہو اس کا حکم مثل بالغین کے ہے اس سے تمام ستر ڈھانکنا فرض ہے ،تفسیر مظہری۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۹۸ج۴)گھر میں کام کاج کرنے والے بڈھے یاجوان نوکروں سے پردہ (سوال) بعض گھروں میں جوان یابڈھے مرد کا م کاج کے لئے نوکر رکھے جاتے ہیں اگر کسی فتنہ کا خوف نہ ہو تو گھر کی مستورات کا ان کے سامنے چہرہ کھولنا شرعاً کیاحکم رکھتا ہے ۔ (الجواب) نامحرم کے سامنے عورت کو چہرہ کھولنا حرام ہے اور یہاں کوئی ضرورت نہیں خصوصاً جب کہ اس صورت میں غالب بلکہ یقینی بات ہے کہ عورتیں (سروغیرہ چھپانے کا بھی اہتمام نہیں کرتیں اور ان نوکروں کے سامنے)کھلے سر پھرتی ہیں اور بعض دفعہ خلوت اور تنہائی کی بھی نوبت آجاتی ہے جو کہ حرام ہے اس لئے یہ صورت بھی جائزنہیں ۔ (ثبات الستور ص۲۶،۲۷)مزدورعورتیں اور نوکرانیاں جو گھروں میں کام کرتی ہیں ان سے پردہ ہے یانہیں (سوال )(۲۳۸) جو عورتیں کھانا پکاتی ہیں وہ اکثر گھر میں بے احتیاطی سے رہتی ہیں ،سرکھلا رکھتی ہیں اور بعض اوقات آٹا گونڈھنے میں کہنیاں کھلی رہتی ہیں