احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
برانتیجہ پیدانہ ہوگا جس کو آج کل تہذیب سمجھاگیا ہے ،اس قسم کی باتیں عورتوں کے لئے معقول نہیں بلکہ نامعقول ہیں ۔بداخلاقی وبدتہذیبی کا شبہ عورت کے لئے تہذیب یہی ہے کہ غیر آدمی سے روکھا برتاؤ کرے اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ ایک بات ایک کے لئے معقول ہو اور دوسرے کے لئے نامعقول ،ایک کے لئے سختی سے بات کرنا اور بے رخی سے جواب دینا معقول ہوسکتا ہے اور دوسرے کے لئے نامعقول ۔ مردوں کے واسطے باہمی کلام کا معقول طریقہ یہ ہے کہ نرمی سے بات کرو کسی کو سخت جواب نہ دو، روکھاپن نہ برتو ،اور عورتوں کے لئے معقول طریقہ یہ ہے کہ اجنبی کے ساتھ نرمی سے بات نہ کریں اور سختی سے جواب دیں اور روکھا برتاؤ کریں ،ایک ہی بات مردوں کے لئے بری اور عورتوں کے لئے اچھی ہوسکتی ہے ، عورتوں کے لئے یہی مناسب ہے کہ جب غیر مردوں سے بات کریں تو خوب روکھے اور سخت لہجہ اور ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کریں ،اول توعورتوں کو غیر وں سے بولنا ہی نہیں چاہئے ،مگر بضرورت بولنا جائز ہے تو اس کا طریقہ ہی ہے ۔ (کساء النساء ص۲۴۲)حیاوشرم کا تحفظ ہمارے یہاں ایک رسم یہ بھی ہے اور مجھے پسند ہے کہ لڑکیوں کا مردوں سے توپردہ ہوتا ہی ہے غیر عورتوں سے بھی ان کا پردہ کرایا جاتا ہے ،چنانچہ نائن