احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
ہے ،اس کا منشاء کفایت شعاری ہر گزنہیں ،کیاساری کفایت شعاری زیورہی میں رہ گئی ؟اچھا کپڑوں میں کفایت شعاری کیوں نہیں کی جاتی ،جو لڑکیاں زیور کم پہنتی ہیں وہ کپڑوں میں بڑی رقم صرف کرتی ہیں ،اسی طرح گھر کی آرائش وزینت میں بھی خرچ کی پرواہ نہیں کرتیں ، اس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقصود محض میموں کا اتباع ہے ،جس چیز میں وہ رقم صرف نہیں کرتیں اس میں یہ بھی صرف نہیں کرتیں ،اور جس میں ان کو زیادہ غلو ہے اس میں یہ بھی خرچ کی پرواہ نہیں کرتیں ،بلکہ یہ مذاق (اور رواج) اس درجہ غالب ہوا ہے کہ جن عورتوں میں زیادہ مالی وسعت نہیں بھی ہے وہ بھی معمولی کپڑوں اور معمولی زیور وں ہی میں ایسی تراش خراش کرتی ہیں ،اور ایسی وضع (طرز) سے اس کو بناتی ہیں ،جس سے وہ میم کی طرح نظر آنے لگیں ۔ بس ایسی حالت میں ان کو زیور کا خیال کم ہونا کوئی خوشی کی بات نہیں بلکہ یہ تو اس کا مصداق ہوگیا۔ اگر غفلت سے بازآیاجفا کی تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی اگر یہ اپنی پرانی وضع پر قائم رہیں پھر زیور کا شوق کم کردیں اس وقت البتہ خوشی کی بات ہے ۔ (الکمال فی الدین ص۸۲)آواز دار زیور پہننے کا شرعی حکم باجہ دار زیور پہننا ممنوع ہے ،البتہ جس میں خود باجہ نہ ہو اگر چہ لگ کر بجتا ہو اس کا پہننا جائز ہے ،مگر اس طرح چلنا کہ اجنبی اس کی آواز سنے ممنوع ہے :