احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
فصل ۲ پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دلیل میں نے ایک بار مجمع میں کہاتھا کہ پردہ کے مسئلہ میں قرآن وحدیث کو بیچ میں لانے کی ضرورت ہی کیا ہے جب کہ قرآن وحدیث کے بغیر ہی اس کی ضرورت ثابت ہوسکتی ہے ،اس کے متعلق میں عرض کرتاہوں کہ کبھی ان لوگوں نے ریل میں سفر کیا ہوگا اور نوٹ بھی ساتھ لئے ہوں گے، کبھی ایسا بھی کیا ہے کہ نوٹ جیب سے نکال کر باہر رکھ دیئے ہوں ؟ یایہ کیاجاتا ہے کہ اندر کی جیب کے اندر بھی جوجیب ہے اس میں رکھے ہوں گے ،تو کیا اس طرح نوٹ کو چھپا کر رکھنے کا حکم قرآن پاک میں ہے ؟ صرف اسی واسطے چھپا کر رکھا جاتا ہے کہ اس کے اظہار میں خطرہ ہے ،اور یہ طبعی امر ہے اس لئے خطرہ کے سبب سے اس کا پوشیدہ کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھئے ! نیز غیرت کا مقتضی بھی یہی ہے کہ عورت کو پردہ میں رکھا جائے ،یہ بھی ایک طبعی امر ہے جو شرعی حکم کے علاوہ پوشیدہ رکھنے (یعنی پردہ) کے ضروری ہونے کا تقاضا کرتا ہے ،بلکہ جو خطرہ یہاں نوٹ کونکال کر سامنے رکھنے میں ہے اس سے زیادہ خطرہ عورت کو باہر نکالنے میں ہے ، نوٹ تو دوچارہزار ہی کے ہوں گے توان کی تو آپ کے دل میں ایسی قدراور عورت کی اتنی بھی آپ کے نزدیک قدرنہیں ؟ (تعجب ہے ) (الافاضات الیومیہ ص۱۴۲ج۱)