احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
باب۵ پردہ کے واجب ہونے کا دارومدار پردہ کامدارفتنہ کے اندیشہ پر ہے (یعنی پردہ کا) حکم فتنہ کے سبب سے ہوا، توجوحکم کسی علت کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ علت پائی جائے گی حکم بھی ضرور پایا جائے گا پس جب پردہ کا حکم خوف فتنہ کی علت سے ہوا تو جہاں فتنہ کا خوف واندیشہ ہوگا جیسے جوان عورت اس پر یہ حکم بھی ضرور واجب ہوگا ،اگر نہ کرے گی تو واجب کی تارک اور گنہگار ہوگی، البتہ جہاں فتنہ کا احتمال نہ ہو جیسے ساٹھ ستربرس کی بڑھیا تو اس پر یہ حکم بھی واجب نہیں ۔ (امدادالفتاویٰ ص۱۸۰ج۴) غیر محرموں سے پردہ کا مدار فتنہ کے اندیشہ پر ہے اور ظاہر ہے کہ عورت کا چہرہ اس کے بدن کا ممتاز حصہ ہے ،غیر محرموں کے سامنے اس کے کھولنے میں بڑافتنہ ہے اس لئے حضرات فقہاء نے غیر مردوں کے سامنے عورت کو چہرہ کھولنے کی اجازت نہیں دی ۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۲۶)پردہ کے واجب ہونے کا مدار اور محرم ونامحرم کی تعریف الغرض پردہ کے واجب ہونے کا مدار محرمیت (اور فتنہ) پر ہے (یعنی جہاں فتنہ کا احتمال ہوگا وہاں پردہ واجب ہوجائے گا) اور محرم وہ رشتہ ہے جس سے ابداً (یعنی ہمیشہ کے لئے) نکاح حرام ہو خواہ نسب سے (جیسے ماں ،بہن ،بیٹی) یا مصاہرۃ سے (جیسے ساس سسر) یارضاع سے (یعنی دودھ کے رشتہ سے) البتہ