احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
بھی ہیں آسانی سے ،بالخصوص دیکھنا اور تصورکرنا تواس لئے بھی سہل ہے کہ اس کی کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی اور یہ سب بدکاری ہے ۔ (دعوات عبدیت ص۱۱۹ج۹)اس تعلق بدکاانجام اس فعل کی خباثت عقلاً ونقلاً ہر طرح ثابت ہے اور طبیعت سلیمہ اس سے خود ہی انکارکرتی ہے ،اس فعل پر سوائے بدطینت آدمی کے اور کوئی سبقت نہیں کرسکتا ۔ ایک کھلا ہوا فرق شہوت بالنساء اور شہوت بالرجال میں یہ ہے کہ عورت سے قضاء شہوت کرنے کے بعد آپس میں طبیعت بڑھتی ہے اور مرد کی عزت عورت کی نظر میں بڑھ جاتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ یہ مرد ہے نامردنہیں اور لڑکوں سے قضاء شہوت کرکے ایک دوسرے کی نظر میں اسی وقت ذلیل وخوار ہوجاتا ہے پھر بہت جلد مفعول کے دل میں عداوت ایسی قائم ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کی صورت سے بیزار ہوجاتا ہے ۔ (دین ودنیاص۲۷۲) امارد(حسین لڑکوں ) سے تعلق بہت خبیث النفس کوہوتا ہے ،اور اس کا نام لوگوں نے محبت رکھا ہے ،یہ محبت ہر گز پاک نہیں ،ایسے ناپاکوں کا مرجانا ہی بہتر ہے ۔ایسے موقعوں پر دیکھا گیا ہے جہاں دونوں طرف سے فریفتگی تھی تعشش کیا جاتا ہے ،مقصد حاصل ہونے کے بعد دونوں میں عداوت ہوگئی ،اس تعلق میں یہی خاصیت ہے ۔ (حسن العزیز ص۸۹ج۲)بدنگاہی وبدنظری بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو شہوت بالرجال سے پاک وصاف ہیں مگر ان