احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
حکام پر |
|
میں کہتاہوں کہ ان کی عورتیں پردہ کرتی ہیں گوباہر نکلتی ہیں اور تمہاری عورتیں پردہ نہیں کرتیں گوگھر میں بیٹھتی ہیں ،چنانچہ چچازاد بھائی ،نندوئی ،دیور،جیٹھ، پھوپھی زاد بھائی ،ماموزادبھائی سب کے سامنے آتی ہیں اور سامنے بھی ایسی صورت سے آتی ہیں کہ بنی ٹھنی ،مانگ نکال رکھی ہے ،مسی کی دھڑی جمی ہوئی ،ہاتھوں میں کڑے ،چوڑیاں چڑھی ہیں ،گوٹے ٹھپے کے کپڑے ہیں اور بالکل بے مہاباسامنے آتی ہیں اور پھر غضب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہنسی مذاق دل لگی بھی ہوتی ہے ،پھر کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہماری عورتیں پردہ میں رہتی ہیں ،ہاں اتنا فرق ہے کہ تمہاری عورتیں گھر میں بیٹھ کر سجی سجائی نامحرموں کے سامنے آتی ہیں اور غریبوں کی عورتیں میلی کچیلی اپنی ضرورت کے لئے حیاشرم کے ساتھ باہر پھرتی ہیں ،پس یہ بے پردگی نہیں ہے ،بے پردگی توبی،اے اورایم، اے اوایف اے والی عورتوں میں ہے کہ کھلے منہ مردوں کی طرح آزادی کے ساتھ بوٹ سوٹ کے ساتھ آراستہ پھرتی ہیں ۔ (التہذیب ملحقہ مفاسدگناہ ص۴۱۰)آنکھوں کے زنا کرنے اور بدنگاہی کی حقیقت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ جو حدیث میں ہے : العینان تزینان (یعنی دونوں آنکھیں زنا کرتیں ہیں )توکیا آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ؟اس پر حضرت نے فرمایا،اس میں اشکال کیا ہے ؟ انہوں عرض کیا کہ آگے حدیث میں ہے : الفرج یصدقہ اویکذبہ‘(اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یاتکذیب)اس سے معلوم ہوا کہ اگر دیکھنے پر زنا واقع ہوجائے تو آنکھوں کا بھی زنا