احکام پردہ ۔ عقل و نقل کی روشنی میں |
§حکام پرØ |
|
بعض فقہاء نے زمانہ کے فتنوں کو دیکھ کر مصاہرۃ اور رضاع سے خلوت میں بیٹھے رہنے کو منع کیا ہے ۔ (بیان القرآن ص۱۶ج۸سورہ نور)محرم کی تعریف شرعی محرم وہ ہے جس سے عمر بھر کسی طرح نکاح صحیح ہونے کا احتمال نہ ہو ،مثلاً باپ ،بیٹا، بھائی یاان کی اولاد ،یابہنوں کی اولاد اور ان کے مثل جن جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو۔ اور جس سے عمر میں کبھی بھی نکاح صحیح ہونے کا احتمال ہو وہ شرعاً محرم نہیں ،بلکہ نامحرم ہے اور جو حکم شریعت میں محض اجنبی اور غیر آدمی کا ہے وہی ان کا ہے ،گوکسی قسم کا رشتہ قرابت کا بھی ہو مثلاً چچایاپھوپھی کابیٹا ،ماموں یاخالہ کا بیٹا،دیوریابہنوئی یانند وئی وغیرہم ۔یہ سب نامحرم ہیں ،ان سے وہی پرہیز ہے جونامحرم سے ہوتا ہے ،چونکہ ایسے رشتہ داروں سے فتنہ ہونا سہل ہے اس لئے اور زیادہ احتیاط کا حکم ہے ۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۲۶)رضاعی بہن اور جوان ساس سے پردہ اس زمانہ میں علماء نے لکھا ہے کہ جوان داماد یا دودھ شریکی بھائی سے بھی احتیاط کرنا چاہئے ، بے محاباسامنے نہ آنا چاہئے اس کے متعلق واقعات ہوچکے ہیں ۔ (اصلاح الرسوم ص۱۰۰) خوش دامن (یعنی ساس) سے فی نفسہٖ پردہ واجب نہیں لیکن للعارض شابۃ (جوان ساس) سے لکھا ہے ۔ (العاقلات الغافلات ص۳۵۱)